دن دوپہر
معنی
١ - روز روشن میں، دن کے وقت، دن دہاڑے۔ "کل یہاں دن دوپہر باورچی خانے کے سامنے سانپ نکلا۔" ( ١٩٥١ء، زیرلب، ٢١٤ ) ٢ - کھلے خزانے، علانیہ، سب کے سامنے ڈنکے کی چوٹ۔ چوری چھپے کی باتوں کی سب میں ہے باز پرس میرا حساب حشر میں دن دوپہر نہ ہو ( ١٩٣٢ء، ریاض رضوان، ٢٤٢ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'دن' کے ساتھ سنسکرت سے ماخوذ لفظ 'دوپہر' لگایا گیا ہے جوکہ 'دن' کی شدت میں اضافہ کرتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٧٣ء کو "فسانۂ معقول" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - روز روشن میں، دن کے وقت، دن دہاڑے۔ "کل یہاں دن دوپہر باورچی خانے کے سامنے سانپ نکلا۔" ( ١٩٥١ء، زیرلب، ٢١٤ )